اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، قابض
اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع رفح میں منگل [17
ستمبر] کو اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے مجاھدین نے
گھات لگا کر چار صہیونی فوجی اہلکاروں کو ہلاک اورپانچ کو زخمی کردیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق القسام بریگیڈز نے رفح میں ایک عمارت کو دھماکے سے اڑا دیا جس میں اسرائیلی فوجی موجود تھے۔ یہ کارروائی ایک اعلیٰ نوعیت کی دھماکہ خیز ڈیوائس کا استعمال کرتے ہوئے کی گئی جس کے نتیجے میں ایک صہیونی فوجی ڈاکٹر سمیت چار فوجی ہلاک ہو گئے۔
اسرائیلی چینل 12 نے اطلاع دی ہے کہ 20 سالہ سارجنٹ “آجم نعیم” رفح میں فوج کے ہاتھوں مارے جانے والوں میں شامل تھی، وہ 52 ویں بٹالین میں ایک طبی اور پہلی خاتون سپاہی تھی جس کی موت کا اعلان زمینی آپریشن کے آغاز کے بعد کیا گیا تھا۔
اسرائیلی فوجی نامہ نگار کے مطابق دھماکے کے بعد فوجیوں کو فلسطینی مجاہدین کی جانب سے شدید فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی فوجی ہیلی کاپٹر ہلاک اور زخمیوں کو نکالنے کے لیے رفح کے مغرب میں العزبہ کے علاقے میں اترے۔
الجزیرہ نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ قابض فوج کے زخمی ارکان کو علاقے سے نکالنے کے لئے شہر کے مغرب میں کم اونچائی پر اسرائیلی جنگی طیاروں نے بھاری پروازیں کیں اور آس پاس دھواں پھیلانے والے بم برسائے اور اسرائیلی ہیلی کاپٹر ایک سے زیادہ مرتبہ علاقے میں اترے۔
۔۔۔۔۔
110